منگل 13 اکتوبر 2026 - 18:03
بحرین کی 70 سالہ تاریخ: برطانوی استعمار کے دور سے علماء کے خلاف مقدموں تک

حوزہ/ بحرینی مصنف اور سیاسی محقق عباس المرشد نے کہا ہے کہ 1956ء میں قومی تحریک کے رہنماؤں کی گرفتاری اور جلاوطنی اور آج بحرین میں بعض علماء کے خلاف مقدمات کے درمیان تاریخی مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق، دونوں ادوار کے واقعات عدلیہ کی آزادی اور سیاسی فیصلوں کے اثرات سے متعلق اہم سوالات اٹھاتے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عباس المرشد نے مرآۃ البحرین میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں لکھا کہ نومبر 1956ء میں برطانوی پولیس نے بحرین کی قومی اتحاد کمیٹی کے رہنماؤں کو گرفتار کر لیا۔ یہ رہنما برطانوی اثر و رسوخ کے خاتمے اور حکومتی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ان پر حکومت کے خلاف سازش، بدامنی پھیلانے اور ملکی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے الزامات عائد کیے گئے۔

عباس المرشد کے مطابق، برطانوی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان رہنماؤں کو جلاوطن کرنے کی تیاریاں عدالتی کارروائی مکمل ہونے سے پہلے شروع ہو چکی تھیں۔ 22 اور 23 دسمبر 1956ء کو خصوصی عدالت میں مقدمے کی سماعت ہوئی، جبکہ 28 دسمبر کو عبدالرحمن الباکر، عبدالعزیز الشملان اور عبدالعلی العلیوات کو سینٹ ہیلینا جزیرے جلاوطن کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ جلاوطنی کے انتظامات مقدمے کی سماعت سے پہلے شروع ہونے کے باعث عدالتی آزادی کے بارے میں سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

قومی تحریک میں مراجع کا کردار

عباس المرشد نے قومی اتحاد کمیٹی کے رہنما سید علی کمال الدین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ قومی تحریک اور نجف اشرف کے مراجع کے درمیان رابطے کا اہم ذریعہ تھے۔ تاریخی دستاویزات اور خطوط کے مطابق، وہ قومی و سیاسی سرگرمیوں کے سلسلے میں شیخ علی کشف الغطاء سے رہنمائی حاصل کرتے تھے۔

اگرچہ سید علی کمال الدین ان رہنماؤں میں شامل نہیں تھے جن پر خصوصی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا، لیکن برطانوی مشیر چارلس بلگریو کی 16 جنوری 1957ء کی رپورٹ کے مطابق، انہیں بحرین چھوڑ کر عراق جانے کے لیے کہا گیا تھا۔

موجودہ حالات سے مماثلت

عباس المرشد نے اکتوبر 2026ء میں بحرین کے بعض علما، فقہا اور اساتذہ کے خلاف مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں بھی عدالتی کارروائی اور ملزمان کے دفاع کے حقوق سے متعلق سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے شیخ محمد صنقور، شیخ محمود العالی اور شیخ علی الصددی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان شخصیات کا تعلق دینی تعلیم، اخلاقی تربیت اور معاشرتی اصلاح سے ہے۔

ان کے مطابق، ماضی میں قومی تحریک کے رہنما سیاسی اصلاحات، عوامی شرکت میں اضافے اور برطانوی اثر و رسوخ کے خاتمے کے خواہاں تھے، جبکہ آج بعض علما مذہبی و اخلاقی اقدار کے تحفظ کے لیے سرگرم ہیں۔

المرشد نے دونوں ادوار کے بیرونی سیاسی حالات کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بحرین پر برطانوی اثر و رسوخ نمایاں تھا، جبکہ آج اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے اور علاقائی سلامتی کے اتحادوں سے متعلق معاملات اہمیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض زیرِ حراست علما اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے اور بحرین کو ایران کے خلاف علاقائی جنگ میں شامل کرنے کے مخالف ہیں۔ ان کے نزدیک، ان مؤقفوں کی وجہ سے ہونے والی کارروائیوں کے محرکات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

عباس المرشد نے سوال اٹھایا کہ کیا علما کے خلاف سکیورٹی الزامات ٹھوس قانونی بنیادوں پر قائم ہیں یا مذہبی و قومی اختلافات کو سکیورٹی کا معاملہ بنایا جا رہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں، عدلیہ کی آزادی اور سیاسی دباؤ سے اس کی حفاظت کا سوال بحرین میں آج بھی اہم ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha